سوشل میڈیا پر مجھ سے رابطے کے لئے نیچے متعلقہ آئیکون کو کلک کیجئے

Sunday, December 09, 2007

شہرِ محبت

بہاولپور آپ کے لیے تو صرف ایک شہر کا نام ہے ۔ لیکن میرے لیے ایک ایسا لفظ ہے جو ہزاروں احساسات کو جنم دیتا ہے ۔ کبھی کبھی سوچتا ہوں کیسے سنگدل ہیں وہ لوگ جو چند مفادات کی خاطر بڑی آسانی سے اپنی جنم بھومی سے دامن چھڑا لیے ہیں ۔ یہ میرا آبائی شہر نہیں پر مجھے اپنے آباء کی طرح عزیز ہے ۔ کیوں نہ ہو ؟ اس شہر نے مجھے لمحہ پیدائش سے اب تک صرف جینے کا سامان ہیں نہیں بلکہ مخصوص انداز فکر ، سوچ ، خواہشات ، اپنے ، پر اے ، دوست ، دشمن ، ہمساے ، ہم جماعت ، اساتزہ ، شاگرد اور یہ سفید پوشی ، غرض سب کچھ ورثے میں دیا ہے ۔ یہ بھی تو ورثہ ہے جو دولت اور خاندانی نام سے زیادہ قیام پزیر ہے ۔ دولت تو آپ کو چھوڑ سکتی ہے لیکن وہ مخصوص انداز فکر نہیں جو ایک شہر میں برس ہا برس رہنے سے پروان چھڑھتی ہے اور آپ کی فطرت ثانیہ بن جاتا ہے ۔پھر تمام عمر آپ اس مخصوص انداز فکر سے دنیا کو دیکھتے ہیں اور دوسروں کو بھی اسی انداز میں سوچنے کا مشورہ دیتے ہیں ۔ کسی بھی شہر میں پنپنے والی یہ مخصوص انداز فکر شہریوں کے رویے متعین کرتی ہے ۔ اور لوگوں کے یہ اجتمائی رویے انہیں کی قسمتیں لکھتے ہیں ۔ اجتمائی رویے قدرتی یا حقیقت پر مبنی ہوں تو قسمت بنتی ہے ورنہ بگڑ جاتی ہے ۔ غلط اجتمائی رویے رکھنے والا شہر ، شہر محبت نہیں ہوتا بلکہ ایسے شہر کی ماند ہوتا ہے جسے انسانی خودغرضی نے جیتے جاگتے قبرستان میں تبدیل کر دیا ہو ۔شہر مکانوں سے نہیں ، مکینوں سے آباد ہوتے ہیں ۔ انہیں کی آمد سے بستے ہیں اور انہیں کے چلے جانے سے اجڑ جاتے ہیں ۔ یہ انسانی زندہ دلی ہے جو ایک شہر میں جان ڈالتی ہے ۔ کبھی کبھی سوچتا ہوں کہ بیتے زمانوں کے قدیم شہر محبت کتنے زندہ تھے ۔ جنہوں نے کئی ایک لازوال تہزیبوں اور مزاہب کو جنم دیا ۔ آج کے یہ جدید شہر کتنے مردہ ہیں ۔ جن کی تجوریاں روپے پیسے تو اگلتی ہیں لیکن یہاں فکروعمل کی شمعیں روشن نہیں ہوتیں ۔ دور جدید کے ان مردہ شہروں میں انسان مشین کی طرح روز وشب کام کرتا ہے اور پھر ناکارہ پرزے کی طرح ٹوٹتا ہے اور بکھر جاتا ہے ۔ ایسے انسان کو بھلا کون زندہ کہے گا ؟ جو سانس تو لے لیکن اس کا دل مردہ ہو ۔ ایسے انسان کو بھلا کون شخص کہے گا ؟ جس کی شخصیت کی خودغرضی اور لالچ نے دھجیاں بکھیر دی ہوں ۔ ایسے انسان میں روح کی موجودگی کا کون ثبوت دیگا ؟ جس کی روح کی روحانیت کو نفسانی خواہشات کی اندھی تقلید نے مجروح کر دیا ہو ۔ روح ، روح سے لگاو رکھتی ہے ۔ اسی طرح روحانیت ، روحانیت کو پہچانتی ہے اور اس سے قربت حاصل کرنے میں ایسے ایسے مقام طے کرتی ہے جن کی موجودگی کو بے روح ، نیم مردا دل کبھی سمجھ نہیں پایا ۔ جو دل ، شہر محبت میں بسی اس روحانت کو پہچانتا ہے ، ہم اسے دل بینا کہتے ہیں ۔ ایسے ہی دل بینا کو ہر انسان میں بیدار کرنے کی آس میں حضرت اقبال لکھتے ہیں عقل گو آستاں سے دور نہیں اس کی تقدیر میں حضور نہیں دل بینا بھی کر خدا سے طلب آنکھ کا نور ، دل کا نور نہیں علم میں بھی سرور ہے لیکن یہ وہ جنت ہے ، جس میں حور نہیں کیا غضب ہے کہ اس زمانے میں ایک بھی صاحب سرور نہیں ایک جنوں ہے کہ باشعور بھی ہے ایک جنوں ہے کہ با شعور نہیں ناصبوری ہے زندگی دل کی آہ ! وہ دل کہ جو ناصبور نہیں بے حضوری ہے تیری موت کا راز زندہ ہو تو تو بے حضور نہیں حضرت اقبال کی اس مشہور غزل میں ناصبوری ( بے چینی ) کو دل کی زندگی کہا گیا ہے ۔ دل بینا کی ایک مخصوص خاصیت یہ بھی ہے کہ وہ اچھائی کو اپناتا ہے اور برائی سے دور بھاگتا ہے ۔ دل بینا کی یہ خواہش ہوتی ہے کہ وہ بھلائی کرے اور دوسروں کو بھلائی کرنے میں مدد دے اور برائی کو روکے اور دوسروں کو بھی برائی کو روکنے میں مدد دے ۔ کیونکہ زندگی تو یہی ہے جو بھلائی پھیلانے اور برائی ختم کرنے میں صرف ہو ۔ دل ہر وقت نیکی کرنے اور گناہ سے بچنے کے لیے بے چین رہے ۔ یہی جنوں دراصل باشعور جنوں ہے ۔ ہم میں سے کئ ایک " اہل دل " ایسے ہیں جو دنیا میں برپا فسق و فجور کو رات دن دیکھتے ہیں لیکن پھر بھی اپنے دلوں کو پرسکون پاتے ہیں ۔ اپنے دل کے اس سکون کو وہ روحانت سمجھ بیٹھے ہیں ۔ کون ہے جو ان کے " نادان دل " کو یقین دلاے کہ اس عزاب کی گھڑی میں یہ سکون روحانی نہیں بلکہ شیطانی ہے ۔

مکمل تحریر  »

Saturday, November 17, 2007

دس خوبصورت ترین سائٹس

نیٹ گردی کرتے ہوۓ مجھے کچھ ایسی سائٹس کا تعارف پڑھنے کو ملا جو مصنف کے بقول خوبصورتی میں اپنی مثال آپ ہیں ۔ مصنف نے ساتھ یہ بھی بیان کیا ہے کہ اس نے ان ہی ویب سائٹس کو خوبصورت ڈیزائن رکھنے کا درجہ کیوں دیا ۔

متعلقہ ربط تک جانے کے لیے یہاں کلک کریں ۔

مکمل تحریر  »

Monday, November 27, 2006

بلاگز پر حاضری خبررساں اداروں سے زیادہ ہے ۔

میں آج ایلیکسا کی سائٹ پر گیا اور وہاں پر میں نے ایک مشہور بلاگز کی کمپنی بلاگرز پر آنے والی انٹرنیٹ ٹریفک کا موازنہ بی بی سی اور سی این این سے کیا تو نتیجہ اس گراف کی ضروت میں سامنے آیا ۔ میں پہلے ہی سے جانتا تھا کہ لوگ آج کل بلاگ زیادہ پڑھتے ہیں لیکن میرے گمان میں بھی نہ تھا کہ خبر رساں اداروں کی سائٹس پر حاضری بلاگز سائٹس کی نسبت اتنی کم ہوگی ۔
Image Hosted by ImageShack.us

مکمل تحریر  »

Tuesday, September 26, 2006

صدر مشرف کی کتاب اور بی بی سی کا رد عمل

صدر پاکستان نے اپنی زندگی اور اپنے خیالات کو مربوط انداز میں پیش کرنے کے لیے ایک کتاب لکھی ہے ۔ میں محسوس کرتا ہوں کہ اس خبر کے سلسلے میں بی بی سی اردو سروس کی ابتدائی ریپورٹس اس کتاب کے خلاف سی تھیں اور صاف دکھائی دیتا تھا کہ ہر طرح کی کوشش کی جا رہی کہ لوگوں کو اور خاص طور پر پاکستانی عوام کو اس کتاب کے سلسلے میں گمراہ کیا جاۓ ۔ میرے خیال میں کتاب لکھنا کوئی برا فعل نہیں ہے ۔ اور کتاب میں اپنے خیالات پیش کرنا بھی برا نہیں ۔ تو پھر ایسا کیوں ہے کہ اسے متنازع بنایا جاۓ ۔کتاب پڑھنے کے لیے لکھی جاتی ہے ۔ لوگوں کو اسے پڑھنے دیا جاۓ اور پھر پول وغیرہ کراۓ جائیں ۔

یہ ایک الگ بات ہے کہ کتاب کو جتنا متنازع بنا کر پیش کیا جاۓ گا اتنا ہی اس کے لیے لوگوں میں اس کا مواد پڑھنے کے لیے دلچسپی بڑھے گی ۔ لیکن کتاب پاکستان میں مقبول ہونے کی صورت میں اب رپورٹنگ کسی حد تک سنجیدہ کی جا رہی ہے ۔ جو بی بی سی کے صفحات دیکھ کر محسوس کیا جا سکتی ہے ۔

یہ تحریر نا مکمل حالت میں غلطی سے اردو ٹیکنالوجی بلاگ میں پوسٹ ہو گئی تھی ۔ جس کے سلسلے میں معذرت قبول کیجیے ۔

پاکستان سے بلاگ تک رسائي حاصل کرنے کے لیے نیچے دیے گے ربط کو استعمال کریں ۔

http://www.pkblogs.com/shameelblog

مکمل تحریر  »

Wednesday, May 31, 2006

میری زندگی کی اولین نعت


نعت 1۔1
نعت 2۔1

یہ میری زندگی کی اولین نعت ہے ۔ یہ نعت میں نے حضور کے واقع معرج کے سلسلے میں لکھی ہے ۔ اس میں ، میں حضور کی تعریف کرتا ہوں اور ان کی عظمت بیان کرتا ہوں اور ساتھ ہی اس دنیا کی بے سباتی بھی کہ کیا ہی سمجھدار لوگ ہیں جو اس دنیا کو ایک قید خانے سے بڑھ کر اہمیت نہیں دیتے ۔ یہی لوگ صحیح مانوں میں روز قیامت کے دن کامیاب ہوں گے یعنی بادشاہ ہوں گے ۔ اللہ نے اس دنیا کو ورثے میں فانی زمانے دیے ہیں ۔ جو آتے ہیں اور چلے جاتے ہیں ۔ اسی طرح ایک دن زمین بھی ختم ہو جاۓ گی ۔

میں نے اس نعت میں " درخشاں ستارے " ان نبیوں اور رسولوں کے کہا ہے جو حضرت محمد سے پہلے آۓ تھے ۔ لیکن معراج کے موقع پر وہ بھی حضور کے مقتدی بنے اور حضور ان کے امام ہوۓ اور ان کو جماعت کروائي ۔ یعنی اس سے حضور کی شان کا اندازہ ہوتا ہے ۔

امید ہے آپ سب احباب کو یہ میری اولین نعت پسند آۓ گي ۔ آپ احباب کی راۓ کا مجھے بے چینی سے انتظار رہے گا ۔

میری اس اولین نعت کی اصلاح جناب اعجاز عبید صاحب نے کی ہے ۔ اس سلسلے میں ان کا بہت شکر گزار ہوں ۔ اصلاح کے سلسلے میں کچھ اور حتمی کانٹ چھانٹ ابھی جاری ہے

پاکستان سے بلاگ تک رسائي حاصل کرنے کے لیے نیچے دیے گے ربط کو استعمال کریں ۔

http://www.pkblogs.com/shameelblog

میں نے اپنے بلاگ میں ایک نیا پول ( راۓ شماری ) شامل کی ہے ۔ جس میں قارین سے پوچھا گیا ہے کہ وہ پاکستانی خبروں کے لیے کس خبر رساں ادارے کی خبریں سننا پسند کرتے ہیں ۔ براہ مہربانی ، آپ اس راۓ شماری میں ضرور شامل ہوں ۔ شکریہ !

مکمل تحریر  »

Thursday, May 04, 2006

مبارک بلاگرز مبارک

بلاگ سپاٹ پر پابندی پاکستان میں ختم کر دی گئی ہے ۔
مبارک بلاگرز مبارک

مکمل تحریر  »

Friday, April 21, 2006

میرا اولین شعر

میرا اولین شعر
یہ ایک حقیقت ہے کہ اگر آپ میں کچھ کرنے کا جذبہ ہو تو آپ ایک نہ ایک دن وہ کام کر ہی لیتے ہیں ۔ میری یہ خواہش تھی کہ میں شاعری کروں لیکن شعر کیسے کہا جاتا ہے ، اس بارے میں علم نہ تھا ۔ اس سلسلے میں ہندوستان کے اردو کے مشہور شاعر جناب اعجاز اختر صاحب اور جناب تفسیر صاحب نے میری بڑی حوصلہ افزائی کی ہے ۔ ان کی ہی حوصلہ افزائی کی ہی بدولت دو تین دن پہلے میں نے اپنی زندگی کا اولین شعر بنایا ہے ۔ اس شعر کی تصحیح جناب اعجاز صاحب نے کی ہے ۔ اس سلسے میں ان کا بہت ممنون ہوں ۔ امید ہے آپ احباب کو بھی پسند آۓ گا ۔

مکمل تحریر  »

Wednesday, April 05, 2006

کڑی فول

کڑی فول
جیسا کہ آپ جانتے ہیں کہ یکم اپریل کو" فرسٹ اپریل فول " منایا جاتا ہے ۔ موقع کی مناسبت سے امی جان کے سکول میں بھی بچوں نے اس دن کا اہتمام کیا ۔ اپنے ساتھیوں کو طرح طرح سے فول بنانے کی تراکیب کہاں کہاں سے نکالی گئیں تھیں ۔ اس سلسلے میں نویں جماعت کی طالبات نے انوکھی ترکیب نکالی ۔ وہ یہ تھی کہ کڑی تیار کی جاۓ ۔ اس سلسلے میں سب طالبات کی نگاہیں معروف امور کھانا داری جنابہ مریم صاحبہ کی طرف تھی ۔ مریم اپنی ہم جماعت ساتھیوں میں عمدہ کھانا بنانے کے سلسلے میں جانی جاتی ہیں ۔ مریم نے امی جان کے پاس آ کر سکول کے اساتذہ کو فول بنانے کے سلسلے میں اجازت طلب کی ۔امی جان نے بخوشی اجازت دی اور لڑکیوں نے سکول کے کچن کی راہ لی ۔ بڑی ہی محنت سے یہ کڑی تیار کی گئی اور فون پر مجھے بلوایا گیا ۔ میں اس وقت سنٹرل لائبریری میں انگریزی رسالے پڑھنے میں مشغول تھا ۔بچیوں کی ہوم اکنامکس کی وجہ سے سکول میں دعوتوں کا ہونا عام سی بات ہے ۔ میں دعوت کی خبر کہیں بھی سنوں فوری طور پر سکول پہنچتا ہوں اور بچیوں کو امور کھانا داری میں نمبر دلوانے کے لیے میں دیگر استانیوں کی مدد بھی کرتا ہوں ۔اس طرح استانیوں کی مدد بھی ہو جاتی ہے اور مجھے انواع و اقسام کے لذیذ کھانے کھانے کو مل جاتے ہیں ۔مگر میں نے اردو محفل پر گوناگوں مصر وفیات خود سے پیدا کر لی ہیں ۔اسی وجہ سے اکتیس مارچ کی ساری رات جاگتے گزری اور ذہن میں بالکل بھی خیال نہ رہا کہ اگلی صبح ہی اپریل فول ہے ۔اپریل فول کے دن کی حشرسامانیوں سے قطع نظر میں خوشی خوشی سکول پہنچا اور شاید " وقت " سے پہلے ہی سکول پہنچ گیا ۔ امی جان کے آفس پہنچا تو مذکورہ بچیوں کو کچھ پریشان پایا ۔ میں سمجھ گیا کوئی الٹی بات تو ضرور ہونے جا رہی ہے ۔ پر اس کے بعد وہ وقت بھی آن پہنچا جس کا سب کو شاید کب سے انتظار تھا ۔ بچیاں بڑے خوبصورت انداز میں کڑی بمعہ دوسرے تکلفات آفس میں آ گئیں ۔ مجھے دال میں کچھ کالا لگا ۔ وہ یوں کہ کھانا داری تو پہلے بھی ہوا کرتی تھی ، پر اتنی محبت سے مجھے کڑی کھانے کی فرما‏ئش نہیں کی جاتی تھی اور تو اور آج تو کم گوہ " مریم " صاحبہ بھی بار بار کہ رہی تھیں " شامی بھائی ! پلیز ، ٹرائی تو کریں نا ؟ میں نے کہا کہ بھئی بات صاف ہے ۔ موقع بھی ہے ۔ دستور بھی اور رسم دنیا بھی ۔ ہونا ہو آپ مجھے فول بنانے کے چکروں میں ہیں ۔ اور ویسے بھی میں نے " باجی جیو جٹی " ( سکول کی ایک ملازمہ ) کو ابھی ابھی چاۓ بنانے کو کہا ہے ۔ مجھے فی‌الحال چا‌ۓ کے سوا اور کچھ نہیں چاہیے ۔ میری طرف سے مکمل طور پر مایوس ہو کر بچیاں ریاضی کے استاد جناب سید سقلین صاحب کے پاس گئیں اور وہ با آسانی کڑی فول بن گۓ ۔ جیسے ہی ان کے سامنے انتہائی خشبودار کڑی پیش کی گئی تو ان کے منہ پانی صاف دکھائی دے رہا تھا ۔ سر نے بڑے چاؤ سے کڑی کے ساتھ آٹے کا بنا ہوا پکوڑا نکالا اور سیدھا منہ میں ڈال لیا ۔ اس کے بعد جو ہونا چاہیے تھا وہی ہوا ۔اس کے بعد طبعیات کی استانی صاحبہ جنابہ صبا فاروق کو بھی فول بنایا گیا ۔ مس صبا کو فول بنانے کی کاروائی تو امی جان کے آپس میں بجالائي گئی ۔ میں نے بچیوں سے کہا کہ صبا صاحبہ کی فولنگ سے پہلے میں چاہتا ہوں کہ آپ کی اس عظیم کڑی کو ہمیشہ کے لیے تصویر میں قید کر لوں ۔ اس کے لیے مجھے گھر سے کیمرہ لانے دیجیے ۔ لڑکیوں سے اجازت پا کر میں فوراً گھر گیا اور کیمرہ لے آیا اور اوپر والی تصویر میں کڑی کو ہمیشہ ہمیشہ کے لیے قید کر لیا ۔ بعد میں معلوم ہوا کہ یہ کڑی ہلدی اور آٹے سے تیار کی گئی تھی ۔ یہی وجہ تھی کہ بہت سے اساتذہ سکول میں جا بجا تھوکتے اور الٹی کرتے پاۓ گئے ۔

مکمل تحریر  »

Sunday, February 19, 2006

صالحہ کا نغمہ سماعت کیجیے

School_8
صالحہ کی عمر ساڑے چار سال ہے ۔ صالحہ ہمارے این آئزک سکول میں پلے گروپ میں زیر تعلیم ہیں ۔

Powered by Castpost
نوٹ !
بچی کا نغمہ سننے کے لیے اس ربط کو چھویں ۔ کیونکہ متعلقہ ایم پی تھری پلیر " اردو سیارہ " پر ظاہر نہیں ہوتا ۔
امی جان کے آفس میں جا کر ابھی بیٹھا ہی تھا کہ نرسری کلاس سے ایک بچی ( صالحہ ) کے گنگنانے کی آواز سنائی دی ۔ آواز میں ایسی مٹھاس تھی کہ مجھ سے رہا نہ گیا ۔ میں نرسری میں آیا اور اپنے ایم پی تھری پلیر کا مائکروفون بچی کے سامنے کیا اور ان سے نغمہ پھر سے گنگنانے کی فرمائش کی ۔ بچی نے میرا کہا مانا اور گیت گانے لگی ۔ ایسی دوران میں نے یہ تہیا کیا کے ان کا یہ ملی نغمہ میں انٹرنیٹ پر نشر کروں گا ۔
میری والدہ کے سکول ، این آئزک پبلک سکول ( جونیر بار انچ ) میں ایک تقریب کی آمد آمد ہے ۔ اسی سلسلے میں تیاریاں زورو شور سے جاری ہیں ۔ اس جشن میں مختلف قسم کے پروگرام پیش کیے جائیں گے ۔ ان میں ملی نغموں کا مقابلہ بھی شامل ہے ۔ نرسری کے چھوٹے جھوٹے بچے مقابلہ جیتے کی خواہش میں خوب دل لگا کر تیاریاں کر رہے ہیں ۔
قارئین سے التماس

اب قارئین سے التماس ہے کہ وہ اس بچی ( صالحہ ) کا نغمہ سن کر اس بچی کا حوصلہ بڑھائیں اور اچھے اچھے کمینٹس لکھ کر بچی کو داد دیں ۔ کچھ دنوں کے بعد ، صالحہ کے والدین بھی میرے بلاگ کا وزٹ کریں گے ۔ اپنی لا ڈلی بیٹی کی تعریف سن کر والدین کے دل کو جو راحت ملے گی اس کا اندازہ بلاشبہ آپ مجھ سے بہتر لگا سکتے ہیں ۔

مکمل تحریر  »

Saturday, February 18, 2006

ایک تقریب کی تیاری ۔


امی جان ( والدہ ) کے سکول ، اين آئزک پبلک سکول ( جونیر بر انچ ) بہاولپور میں ایک تقریب منعقد ہو رہی ہے ۔ اور جونیر بر انچ کے تمام کم سن طالب علم اس تقریب کی تیاری میں مصروف ہیں ۔ میں نے اس موقع پر موجود چند طالب علم بچوں کی تصاویر اتاری ہیں ۔

School_1

School_2

School_3

School_4

بھولے بچوں کی مدد کے لیے سکول کی دوسری ( ہائیر بر انچ ) سے ششم ، نویں ، دسویں اور ایف اے کی چند طالب علم ( باجیاں ) بھی آئی ہوئیں ہیں ۔

School_5

School_6

مکمل تحریر  »

مائیکروسوفٹ پاور پوائنٹ اردوMicrosoft Power Point Urdu


مائیکروسوفٹ پاور پوائنٹ پر میں نے شعر لکھا ہے ۔

Ashar2

مکمل تحریر  »

Friday, January 27, 2006

سلسلےوار انگریزی ڈرامے " لوسٹ " کا پہلا موسم ( First Season Of Lost Series )

میں یہ بات پورے وسوخ سے کہ رہا ہوں کہ جس کسی نے بھی سلسلےوار انگریزی ڈرامے "
لوسٹ " کے پہلے موسم (Fist season of Lost series ) کو نہیں دیکھا ، وہ اس زمین پے سب سے زیادہ پسندیدگی سے دیکھے جانے والے اور کسی بھی ڈرامے سے زیادہ بحث کا موضوع بننے والے سلسلے وار ڈرامے کو دیکھنے سے محروم رہا ۔


lost 0

یہ سلسلےوار انگریزی ڈرامہ پچھلے سال انتہائی جانے مانے مغربی ٹیلی وزن چینلز پر دکھایا گیا اور کامیابی کے جھنڈے گاڑتا ہوا سٹار موویز کے توسط سے پاکستانی اور ہندوستانی عوام کی نظروں کے سامنے جلوہ افروز ہوا ۔ پر یہ الگ بات ہے کہ میں بدنصیب اپنی گوناگوں مصر وفیات کے سبب اس سلسلے کو نہ دیکھ پایا ۔ لیکن لوسٹ کے سلسلے کے پہلے موسم کی 7 ڈی وی ڈی کا سیٹ اب بازار میں دستعاب ہے ۔ میں بھی اس مشہور زمانہ انگریزی ڈرامے کا سیٹ بازار سے لے آیا ہوں ۔ اور گزشتہ 5 دن سے مسلسل 7 ڈی وی ڈیز کو دیکھنے میں مصروف رہا ہوں ۔
اب مغربی ممالک کے لوگ اس سحرانگیز سلسلےوار ڈرامے کے دوسرے موسم ( second season of lost series ) کا مزہ لے رہے ہیں ۔ امید ہے دوسرا موسم بھی سٹارمویز کی راہ جلد دیکھ لے گا ۔ اور برصغیر کے لوگ بھی اس ڈرامے کے دوسرے موسم کے سحر سے مستفید ہوں پائنگے ۔

ڈی وی ڈی پر ہونے کے سبب ڈرامہ انتہائی عمدہ مناظر لیے ہوۓ ہے اور ہاتھ کے ہاتھ یہ سراونڈ ساونڈ کے خواص بھی اپنے اندر شامل کیے ہوۓ ہے ۔جس کے سبب اس سیٹ کے ذریعے آپ ٹیلی وزن کے کسی بھی چینل سے کہیں زیادہ عمدہ تفریح پاتے ہیں ۔


نوٹ!ڈرامہ " لوسٹ " کے مناظر میں نے انلیڈ ڈی وی ڈی پلیر نامی سافٹ ویر کی مدد سے محفوظ کیے ہیں ۔
" لوسٹ " کی کل کہانی کا خاکہ ۔
ڈرامہ سیریل لوسٹ کی شکل میں جے جے ابراہیم ایک ایکشن سے بھر پور مہم جوئی ہمارے سامنے پیش کرتے ہیں ۔ یہ جے جے ابراہیم وہی ہیں جنہوں نے ایلیس اور ڈیمنڈ لین لوف جیسے شاندار ڈرامے تخلیق کیے ۔ یہ ڈرامہ ان لوگوں کے بہترین اور بدترین کارنامے ہمارے سامنے پیش کرتا ہے جو کسی جزیرہ پر بدقسمتی سے کھو جاتے ہیں ۔

کہانی کی شروعات کچھ اس طرح سے ہوتی ہے ۔

بےہوشی ٹوٹنے پر " جیک " ( میتھیو فوکس ) ایک گہری تکلیف کو محسوس کرتا ہے ۔


First Season Of Lost Series_1

اور اسےچمکتا ہوا سورج ۔ بانس کا جنگل ۔ کہیں دور سے اٹھتا ہوا دھواں اور لوگوں کی چیخ و پکار سنائی دیتی ہے ۔
First Season Of Lost Series_2

First Season Of Lost Series_3

اور یکلخت " جیک " کو یہ خطرناک احساس ہوتا ہے کہ وہ جس ہوائی جہاز میں کچھ دیر پہلے سفر کر رہا تھا وہ حادثے کا شکار ہو گیا ہے ۔

First Season Of Lost Series_4

اسی لمحے اس کا دل اسے یاد دلاتا ہے کہ وہ پیشے کے اعتبار سے ایک ڈاکٹر ہے اور مصیبت میں گھیرے ان لوگوں کو اس کی مدد کی اشہد ضرورت ہے ۔

First Season Of Lost Series_5

اپنا سب کچھ کھو چکے 48 مسافر مقدور بھر کوشش کرتے ہیں کہ وہ ٹوٹے ہوۓ جہاز سے کام کی اشیا باہر نکال لیں تاکہ چند دن کے لیے ان کے جینے کا سامان ہو جاۓ ۔ کچھ مسافر سخت دل برداشتہ ہو جاتے ہیں ۔ اور کچھ کلی طور پر بیرونی امداد کے پہنچنے کا انتظار کرتے رہتے ہیں ۔ لیکن چند مسافر ایسے بھی ہوتے ہیں جو اس نفسانفسی کے عالم میں اپنے اندر چھپی ہوئی ان صلاہتوں کو جان جاتے ہیں ، جن کی موجودگی کا انہیں کبھی بھی عم نہ تھا ۔ مثال کے طور پر جیسا کہ " کیٹ " ( ایوان جی لین للی ) ۔

First Season Of Lost Series_6

" کیٹ " کسی بھی قسم کی طبی تعلیم نہ جاننے کے باوجود بھی ڈاکٹر " جیک " کی پیٹھ پر گہرے زخم پر ٹانکے لگاتی ہے ۔ " کیٹ " نے پہلے کبھی بھی ایسا نہیں کیا تھا ۔

First Season Of Lost Series_7

" ہرلے " ( جورج گارسیا ) ہمیشہ ہنستہ مسکراتا دکھائی دیتا ہے چاہے جتنی بھی مصیبت کی گھڑی کیوں نہ ہو ۔ اس طرح سے وہ اپنے آپ کو جذباتی ہونے سے بچاتا ہے اور مصیبت زدہ افراد کی عین وقت پر مدد کرتا ے ۔

First Season Of Lost Series_8

ڈرامے کا ایک اور کردار "چارولی" ( ڈوم نیک موناگان ) ایک ڈوبتا ہوا روک سٹار ہے ۔ پر وہ انتہائی گہرا اور تکلیف دہ راز تشت از بام کرتا ہے ۔ اسی کردار کا ایک مشہور قول ہے (?guys! where are we )
First Season Of Lost Series_9

صعید ( نوین اینڈریو ) برصغیر سے تعلق رکھتا ہے ۔اور اکثر بیشتر اپنے جھگڑ الو ساتھیوں کو سبق سکھانے اور جزیرہ کی آہم مہم جوئی میں مصروف دکھائی دیتا ہے ۔

First Season Of Lost Series_10

" جن " ( دانیال ڈای کیم ) اور سن ( ین جن کیم ) دونوں میاں بیوی ہیں اور کوریا کے رہنے والے ہیں پر ان کے رسم و رواج ، اقدار اور زبان باقی سب مسافروں کے لیے انجان ہیں ۔اس لیے کہانی میں اکثر یہ جوڑا اور باقی مسافر ایک دوسرے کو اپنی بات اور خیالات سمجھانے میں ہی الجھے رہتے ہیں ۔اور بہت سی غلط فہم یاں جنم لیتی ہیں ۔

First Season Of Lost Series_11

" سوایر " ( جوش ہولوۓ ) کا کردار عجیب سی غیر یقینی اور خوفناکی لیے ہوۓ ہے ۔ کوئی بھی اس پر اعتبار کرنے کو تیار نہیں ہوتا ۔ اور اس بے اعتباری کے سبب سب مسافر اس سے صرف شر کی ہی توقع رکھتے ہیں ۔
First Season Of Lost Series_12

" مائکل " ( ہیرا لڈ پیرنیو ) نے اپنی گشتہ بیوی کی وفات پر اپنا بیٹا " والٹ " ( مال کولم ڈیوڈ کیلی ) گود لیا ہے ۔ کہنے کو تو وہ " والٹ " کا باپ ہے پر ابھی تک وہ اپنے بیٹے کی نفسیات اور خیالات نہیں جان پایا ہے ۔

First Season Of Lost Series_13

" لوک " ( ٹیری او کین ) ایک پرسرار کردار ہے جو اپنے راز اپنے آپ تک محدود رکھتا ہے اور اس جزیرے سے کسی بھی کردار سے زیادہ وابستگی پیدا کر لیتا ہے ۔

First Season Of Lost Series_14

" شینن " ( میگی گریس ) کا کردار ایک خود پسند لڑکی کا ہے ۔ اسے کسی سے کوئی سروکار نہیں اور نہ ہی اسے حادثے کا زیادہ دکھ ہے ۔

First Season Of Lost Series_15

" بون " ( ایان سومرحالڈر ) کا کردار ایسے بھائی کا ہے جو اپنی بہن " شینن " کی حرکات پر گہری نظر رکھتا ہے ار اس کو کنٹرول کرنے کی کوشش کرتا ہے ۔

First Season Of Lost Series_16

حرف آخر
دوستوں ، دشمنوں ، کنبہ کے افراد اور انجان مسافروں کے اس ٹولے کو ستم شعار موسم اور سخت قطعہ زمین کا ایک ساتھ مل کر مقابلہ کرنا ہوگا ۔ صرف یہی بات ان کی بقا کے حق میں ہے ۔ پر یہ جزیرہ خود سے کئی راز اپنے سینے میں دباۓ ہوۓ ہے ۔ان گہرے رازوں میں ایک عجیب مخلوق کی غضبناک کراھنے کی آوازیں بھی شامل ہیں جو ان لاچار مسافروں کے خوف میں اضافے کا سبب ہیں ۔یہ عجیب مخلوق جان لیوا ہے اور چھوٹے سے جزیرے کے تمام جنگل پے قابض ہے ۔ پر خوش قسمتی سے ان کو ایک سمجھدار ڈاکٹر" جیک " اور ہشاش بشاش لڑکی " کیٹ " کی رہنمائی حاصل ہے ۔ لاچار مسافروں کی جماعت کو اپنے جوان رہنماؤں سے نیک امیدیں وابستہ ہیں ۔ لیکن ان رہنماؤں کے اپنے بھی کئی ایک راز ہیں جو مسافروں کے سامنے
لمحہ وار افشاں ہوتے چلے جاتے ہیں ۔


سلسلےوار انگریزی ڈرامے " لوسٹ " کی با ضابطہ ( Official Site ) ویب سائٹ ۔
سلسلےوار ڈرامے لوسٹ کی با ضابطہ ( Official site ) ویب سایٹ اس ربط کو چھو کے ملا خطہ کی جا سکتی ہے ۔

مکمل تحریر  »